افکار مودودیؒ

ا

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے 1970 کے الیکشن کے تناظر میں پوچھا گیا کہ جماعت اسلامی 30,40 سال کی کوششوں کے باوجود اقتدار حاصل نہ کر سکی اور پیپلزپارٹی چند سال کے اندر ہی اقتدار تک پہنچ گئی اور ملک کے سیاہ و سفید کی مالک بن گئی۔ کیا یہ جماعت اسلامی کی ناکام ہو جانے کا ثبوت نہیں؟

تو مولانا مودودی نے جواب دیا

جماعت کو سچائی نے شکست نہیں دی ‘جھوٹ نے شکست دی ہے۔ جماعت اسلامی اگر سچائ سے شکست کھاتی تو فی الواقع اس کے لئیے شدید ندامت کا مقام تھا۔لیکن چونکہ اس نے جھوٹ سے شکست کھائ ہے اس لئیے اس کا سر فخر سے بلند ہے۔
وہ جھوٹ کے مقابلے میں جھوٹ نہیں لائی۔
وہ بداخلاقی کے مقابلے میں بداخلاقی نہیں لائی۔
اس نے سڑک پر رقص نہیں کیا۔
اس نے غنڈوں کو منظم نہیں کیا۔
اس نے برسر عام گالیاں نہیں دیں۔
اس نے لوگوں سے جھوٹے وعدے نہیں کئیے۔
وہ دیکھ رہی تھی کہ لوگ جھوٹے وعدوں کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہیں

۔
کچھ لوگ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ کچھ نہ کچھ آپ کو بھی کرنا چاہیے۔ لیکن میں ان سے برابر یہی کہتا رہا کہ چاہے آپ کو ایک نشست بھی نہ ملے لیکن آپ سچائ کے راستے سے نہ ہٹیں۔ وہ وعدہ جسے آپ پورا نہ کرسکتے ہوں وہ آپ نہ کیجیئے۔۔ کوئ ایسا کام آپ نہ کیجئے جسکی وجہ سے خدا کے ہاں آپ پر کوئ ذمہ داری آجائے کہ آپ اس قوم کا اخلاق بگاڑ کر آۓ ہیں۔ آپ بھی اس قوم کو جھوٹ، گالی گلوچ، اور دوسری اخلاقی بیماریوں میں مبتلا کر کے آئے ہیں۔ جو ذمہ داری آپ پر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کا بتایا ہوا طریقہ ہے اس کے مطابق کام کریں۔ آپ اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ اس ملک کے اندر ضرور اسلامی نظام قائم کریں۔ اسلامی نظام کا قیام تو اللہ تعالی کی تائید اور توفیق پر منحصر ہے۔ اس قوم کی صلاحیت اور استعداد پر منحصر ہے جس کے اندر آپ کام کر رہے ہیں، کہ اللہ تعالی اس کو اس قابل سمجھتا ہے یا نہیں کہ اس کو اسلامی نظام کی برکتوں سے مالا مال کرے، یا انہیں تجربوں کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دے جن کی ٹھوکریں آج وہ کھا رہی ہے۔ آپ کا کام اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر چل کر محنت کرنا ہے، جان کھپانی ہے۔ اس میں اگر آپ کوتاہی کریں گے تو معتوب ہوں گے۔ اس میں اگر کوتاہی نہیں کرتے تو اللہ کے ہاں کامیاب ہوں گے خواہ دنیا میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں۔

(حوالہ:- تصریحات, صفحہ, 277-278)1

About the author

Haq Nawaz Malik

Add Comment

Haq Nawaz Malik

Get in Touch