اکیاون سالہ سفر کا شاندار اختطام

ا

شفی نقی جامعی کا شمار پاکستان کے معتبر صحافیوں میں ہوتا عالمی سطح پر بھی صحافت کے میدان میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔زمانہ طالبعلمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہےاور جمعیت کی تربیت اور اپنی محنت کے بدولت کامیابی کے زینے چڑھتے ہوےٗبی بی سی لندن کے نیوز بلیٹن سیربین کا حصہ بن گیےٗ۔

بچپن کی کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں آپ بھولنا چاہیں بھی تو نہیں بھول سکتےبی بی سی لندن کا خبروں تجزیوں اور تبصروں پرمشتمل پروگرام سیربین آج اکیاون برس بعد اپنے اختطام کو پہنچا،یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں چوتھی پانچوین جماعت کا طالبعلم ہوا کرتا تھامیرے والد کا معمول تھا کہ وہ فجر کی نمازاور تلاوت سے فارغ ہو کر بی بی سی سربین سنا کرتے تھے اور شام کے وقت بی بی سی کا آٹھ بجے والا خبرنامہ سننا روز کا معمول تھا۔

ہم سب بہن بھایی بھی دلچسپی اور غور سے سنتے۔علی الصبح ہمارے کانوں میں ایک ااواز گونجتی”پاکستان مین صبح کے ساڑھے چھِ بھارت میں سات اور بنگلہ دیش میں ساڑھے سات جبکہ لندن میں معیاری وقت کے مطابق دن کا ڈیڑھ بج رہا ہے سیربین پیش خدمت ہے شفیؑ نقی جامعی کا سلام قبول کیجیے” اور اس طرح خبروں کا آغاز ہوتا اور “بات سے بات” وسعت اللہ خان کے جاندار تبصرے اور ماہ پارہ صفدر کے باکمال تبصرے بھی پروگرام کا حصہ ہوتے۔

سیربین بنیادی طور پر بی بی سی لندن کا ریڈیو پروگرام تھاجو پاکستان کے انتہایی پسماندہ علاقوں میں ان پڑھ لوگ بھی بہت شوق سے سنتے تھےاسکی بنیادی وجہ بی بی سی کے حقایق پر مبنی رپورٹنگ اور سچی خبریں عوام تک پہنچانا تھا۔اب جبکہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا دور دورہ ہے لوگ اپنے موبایل میں خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں تو ریڈیو کی افادیت میں کمی واقع ہویی ہے جس کے باعث دریبین کا شاندار سفر یہان پر ختم ہوا۔

آج پاکستان بھر سے لوگوں نے سبربین کے آخری پروگرام میں لایٰیو کالز کے زریعے تمام سٹاف کو خراج تحسین پیش کیا انکی خدمات کو سراہا اور ساتھ ساتھ سربین کے خاتمے پرافسوس کا اظہار کیا آج جب لندن سٹوڈیو میں سربین کا آخری پروگرام چل رہا تھا تو مجھے اپنا بچپن یاد آیا اور دوسری جانب شفیع نقی جامعی کی رس گھولتی آواز کانون کو محسوس ہونے لگی۔

About the author

Haq Nawaz Malik

Add Comment

Haq Nawaz Malik

Get in Touch