تقریب بیاد قاضی حسین احمد

ت

جماعت اسلامی کے سابق امیرقاضی حسین احمدؒ کی یاد میں منصورہ میں تقریب ہوئی جس میں ملک و قوم اور عالم اسلام کیلئے انکی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے کہا کہ قاضی حسین احمد اتحاد عالم اسلام کے سب سے بڑے علمبردار تھے ،ایک مہم ختم نہیں ہوتی تو وہ دوسری تحریک کیلئے تیار ہوتے ۔

گزشتہ روز امیر العظیم نے اپنی صدرات ہونیوالی تقریب سے خطاب میں مزید کہا کہ قاضی حسین احمدبجا طور سمجھتے تھے کہ جب تک امت متحد نہیں ہوتی عالم اسلام ترقی نہیں کرسکتا، انہوں نے پاکستان کو حقیقی اسلامی مملکت بنانے اور ظلم و جبر کے خاتمہ کیلئے دن رات ایک کردیا۔صحافی سہیل وڑائچ نے کہا کہ قاضی حسین احمد کا ہاتھ ہمیشہ عوام کی نبض پر ہوتا تھا، انکی اٹھائی گئی تحریکیں عوامی تحریکیں ثابت ہوئیں۔ آج اگر قاضی حسین احمدہوتے تو پاکستان زیادہ متحد اور مضبوط ہوتا اورمقبوضہ کشمیر بھی شاید بھارت سے آزاد ہوچکا ہوتا۔تحریک حریت کشمیر کے رہنما غلام محمد صفی نے کہاکہ قاضی حسین احمدنے پاکستانی قوم اور کشمیر یوں کو جوڑا ، اب کوئی حکومت مسئلہ کشمیر سے بھاگ نہیں سکتی

۔ 5فروری یکجہتی کشمیر کا آغاز کیاکشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بناکر ایک صف میں کھڑا کیا۔جمعیت علمائے پاکستان کے رہنماقاری زواربہاد نے کہا کہ قاضی حسین احمد کی سیاسی و ملی خدمات کو آج پوری قوم یاد کررہی ہے ۔آصف لقمان قاضی نے کہا کہ قاضی حسین احمد عالم اسلام کو درد مشترک کے تحت متحد کرنے کیلئے زندگی بھر کوشاں رہے ،علامہ اقبالؒ اور فیض احمد فیض کی شاعری کو بہت پسند کرتے تھے ۔ تقریب سے نائب امیر جماعت اسلامی عبد الغفار عزیز اور امیر لاہور ذکر اللہ مجاہد نے بھی خطاب کیا۔ا س موقع پر حافظ ادریس،عبدالغزیز عابد اور میاں شفیق بھی موجود تھے ۔

About the author

Haq Nawaz Malik

Add Comment

Haq Nawaz Malik

Get in Touch