جمعیت سے حلقہ احباب تک

ج

اسلامی جمعیت طلبہ رحمت خدا وندی ہے اور شجر سایہ دار بھیِ،غازیوں کا مجموعہ بھی اور شہدا کا گلدستہ بھی ،کالجوں کی رونق بھی اور جامعات کی شان بھی،اعلائے کلمۃ اللہ کی سربلندی کا نام بھی اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر رب کی غلامی میں ڈھالنے کا نام بھی ،خیر اور بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور شرو انتشار سے دامن بچا کر نکلنے کا نام بھی جمعیت ہے۔الغرض معرکہ حق وباطل میں جمعیت قافلہ حق کی امین ہے اور قربانیوں کی لازوال داستان میں عبدالمالک شہید سے لیکر طفیل الرحمان شہید تک ایک طویل فہرست ہے جن کے لہو نے گلشن کی ٓبیاری کی ہے۔

جمعیت کے تربیت یافتہ افراد معاشرے کا سرمایہ افتخار ہیں،بظاہر یہ تمام افراد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہیں اور خدمات سرانجام دے رہے ہیں بہت سارے بیرون ملک مقیم ہیں اکثریت تحریک اسلامی سے جڑے ہوئے ہیں اور چبد سابقین دوسرے پلیٹ فارمز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں لیکن ٓج بھی ان سب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں سب اپنے شاندار ماضی کو یاد کرتے ہیں لیکن مادہ پرستی کے اس دور میں جہاں انسان کی نجی شندگی متاثرہوئی وہیں پر دوست احبب اور رشتہ داروں میں بھی فاصلے بڑھ گئے ہیں،

پچھلے چند سالوں میں سابقین جمعیت کو ایک پلیٹ فارم پر دوبارہ جمع کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی گئیں اورحلقہ احباب تشکیل دیا گیا الحمدللہ اس فورم نے بچھڑے یاروں کو ملانے کے ساتھ ساتھ دوریوں کو قربت میں بدلا ہے اور فاصلوں کو نزدیکیوں میں سمیٹا ہے اور باقاعدہ منظم انداز میں متحرک بھی کردیا یے ۔ہر سال ملک کے مختلف شہروں میں حلقہ احباب کنونشنز بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔االلہ کے خاص فضل سے احباب کلب کے نام سے ویب سائٹ بھی لاونچ کردی گئی ہے اوراب سوشل میڈیا تک وسعت دی جائے گی۔

ٓئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ کہ ہم تمام سابقین سے رابطے بڑھاییں حلقہ احباب کو وسعت دیں منتشر اور بکھرے ہوئے ساتھیوں کو ایک تسبیح کی مانند یکجا کریں اور اسلامی انقالاب کی جدوجہد میں سب کو ہم نوا بنائں۔

About the author

Haq Nawaz Malik

Add Comment

Haq Nawaz Malik

Get in Touch