پاک ایران تعلقات اور مفاداتی ٹکراو

پ

خلیج میں جنگ کے خدوخال بڑی حد تک ابھر چکے ہیں اگرچہ فی الحال تیسری عالمی جنگ کا ہونا یقینی نہیں۔ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد واقعات کی رفتار بڑھ گئی ہے امریکی سفارتخانے اور شمالی عراق میں امریکی اڈے پر راکٹ حملوں کے بعد امریکہ نے حشب الشجی کے دو قاتلوں کو نشانہ بنایا جن میں دس بارہ جنگجو مارے گیے ۔تین ہزار مزید امریکیوں کی خلیج میں تعیناتی کے اگلے روز کئی ہزار میرینز مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہوگئے جبکہ خلیج میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی پہلے ہی غیر معمولی تھی۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے بعد پاکستان ایک نیے امتحان میں داخل ہوچکا ہے ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور امن کا خواہاں ہے دوسری طرف پاکستان نے ایران اور امریکہ کو صبروتحمل سے کام لینے پر زور دیا ہے۔مشرق وسطیٰ میں جنگ کے نتیجے پر پاکستان براہ راست متاثر ہوگا اس جنگ کے پورے خطے پر کیا اثرات مرتب ہونگے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے لیکن پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات بھی ہیں مستقبل کے ممکنہ خدشات اور اثرات پر بات کرنے سے قبل ہم پاکستان اور ایران کے ماضی کے تعلقات پر نظر ڈالتے ہیں۔الیکس وینٹیکا مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر پروفیسر ہیں ایران کی اندرونی سیاست اور خطے کے دیگر ممالک سے تعلقات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔آج کل ان کی مشہور کتاب “Iran and Pakistan.Security,Deplomacy and American influence”میرےزیر مطالعہ ہے ۔اسی اثنا میں ایران امریکہ کشیدگی بڑھ گئی تو مین نے سوچا کہ  کافی ساری باتیں آپ حضرات تک بھی پہنچا دوں۔ 

ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا۔شاہ ایران رضا شاہ پہلوی دنیا کے پہلے لیڈر تھے جنہوں نے 18جون 1950کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور دوستی کے معاہدوں پر دستخط ہوے۔بہت سے لوگوں کو اس بات کا بھی شاید علم نہ ہو کہ پاکستان کا قومی ترانہ اس وقت راتوں رات لکھوایا اور کمپوز کرایا گیا جب شاہ ایران نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔لفظ “کا” کے سوا پورا ترانہ فارسی میں ھے ۔پاکستان کی آزادی کے بعدسفارتی خط و کتابت کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ھے کہ پاکستان اس دور میں زیادہ تر راہنمائ ایران سے ہی لیتا تھا۔13ستمبر 1947کو ایران سے درخواست کی گئ کہ  اپنے آئین اور قانون کی کاپی فراہم کرے ایرانی آئین کی کاپی اسے ایک ماڈل سمجھتے ہوے مانگی گئی۔پاکستان ایران تعلقات اس وقت زیادہ بہتر ہوئے

جب سکندر مرزا حکمران بنے۔وہ بنگال کے ایک فیوڈل خاندان سے تھے اور ان کے ایران کے ساتھ اچھے سفارتی  تعلقات تھے۔سکندر مرزا شیعہ تھے لہذا ایران پاکستان کے زیادہ قریب آیا تاہم ان دنوں شیعہ سنی تقسیم اتنی گہری نہیں تھی جتنی بعد میں دیکھنے کو ملی۔سکندر مرزا کے ایران کے ساتھ اس وقت تعلقات مزید استوار ہوے جب انہوں نے دوسری شادی ایرانی خاتون ناہید سے کی۔ناہید ایک ایرانی دفاعی اتاشی کی بیوی تھیں جو کراچی میں تعینات تھا۔سکندر مرزا اور ناہید پہلی ملاقات میں ہی ایک دوسرے کو دل دے بیٹھے۔ناہید نے پہلے خاوند سے طلاق کے بعد دو برس بعد 1954 میں سکندر مرزا سے شادی کرلی۔ناہید ایران کے مشہور سیاستدان اور پرانے رکن پارلیمنٹ تیمور کلاے کی بیٹی تھیں۔ناہید مرزا کی ایک اور کزن نصرت اصفہانی نے بعد میں ذوالفقارعلی بھٹو سے شادی کی۔یہ دونوں کزنز ایران کی اعلی سوسائٹی اور تجارتی خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں جو بعد میں پاکستانی معاشرے میں اہم مقام پر فائز ہوئیں۔1979میں ایران میں انقلاب آیا تو نئے حکمرانوں نے سابقہ پالیسی بدل ڈالی۔ہندوستان اور پاکستان میں موجود شیعوں کی وجہ سے سیاسی دلچسپی میں اضافہ ہوا تاکہ ایران اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا دائرہ بڑھاے۔رضا شاہ پہلوی نے پاکستان کے ساتھ کچھ اور نوعیت کے تعلقات رکھے تھے لیکن انقلاب کے بعد ایران کی طرف سے پاکستان میں سیاسی کردار اہمیت اختیار کرتا گیا

۔1979تک رضاشاہ کے دور میں یہ کردار ایک بڑے بھائ کا رہا  جس نے ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی۔ویسے رضا شاہ کو پاکستان کا اصلی دوست کہا جاسکتا ھے جس نے ایران پر1941سے 1979 تک حکومت کی۔شاہ ایران کا ایک مضبوط پاکستان میں یہ مفاد تھا کہ اس طرح وہ روس کے جنوبی ایشیا میں اثرورسوخ کو قابو میں رکھے گا۔اس لئے پاکستان کی بقا کے لئے شاہ ایران کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا لہذا جب بھی پاکستان مسایل میں گھرا شاہ ایران مدد کو دوڈا تاہم شاہ ایران اپنے اقتدار کے آخری عشرے میں پاکستان سے مایوس ہونا شروع ہوگیا تھا۔1971 میں پاکستان کو بھارت نے شکست دی تو شاہ ایران شدید مایوسی کا شکار ہوے۔شاہ پر یہ سوچ کر مایوسی کے دورے پڑتے کہ شاید پاکستان زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے۔رضا شاہ کا خیال تھا کہ ایک کمزور دوست جس سے آپ مدد کی توقع رکھے بیٹھے ہوتے ہیں وہ الٹا آپ پر بوجھ بن جاتا ھے۔برطانیہ بھی شاہ کی سوچ سے متفق تھا،تاہم شاہ ایران نے مشرقی پاکستان کے بعد باقی ماندہ پاکستان کو بچانے کی کوششیں شروع کردی اور پاکستان کو ایران کی فارن پالیسی کا اہم ستون بنایا تاکہ یہ ایک دفعہ پھر ٹوٹ نہ جائے۔الیکس اپنی کتاب میں لکھتا ھے “1973میں بلیر ہاوس واشنگٹن میں شاہ ایران اور ہنری کسنجر میں ملاقات ہوئی  جس میں شاہ نے واضح کیا کہ انہوں نے روس کو بتادیا تھا کہ وہ پاکستان کا تحفظ ہر صورت کرینگے ۔کسنجر کو شاہ ایران نے یہ بھی بتادیا کہ انہوں نے انڈیا کو بھی پیغام بھیج دیا ھے کہ اب مغربی پاکستان پر حملہ ہوا تو ایران پاکستان کی ہر طرح مدد کرے گا،ایران اب پاکستان کے مزید ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھ سکتا”

پاکستان اور ایران کے تعلقات میں سرد مہری اس وقت آئی جب پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے امریکہ کے دباو میں پاک ایران گیس پائپ لائن سے دستبرداری کا مظاہرہ کیا اور باقاعدہ طور پر ایران نے پاکستان سے جرمانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔سی پیک منصوبے کے بعد ایران اور بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ پر کام شروع کیا اور بھارت نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے بھارت اور ایران نے مل کر بلوچستان کے اندر دہشت گردی کا منصوبہ بنایا اور بھارتی حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیو ایرانی ویزے پر مبارک حسین پٹیل کے نام سے ایران سے پاکستان آتے رہے۔پاکستان کے سپہ سالار قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف نے ایران جاکر حسن روحانی کو ایران کی پاکستان میں دہشت گردی کے ثبوت پیش کئے جس کے بعد ایران نے اپنی پالیسی اور رویہ بدل ڈالا۔اس وقت ایران میں غم کا ماحول ہے لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل کر امریکہ مردہ باد کے نعرے لگارہے اور ایرانی حکومت پر عوام کا سخت دباو ہے کہ قاسم سلیمانی کے قاتلوں کا فوری بدلہ لیا جائے۔کیا ایرانی حکومت عوام کے دباو میں آکر کوئی بڑی کاروائی کرے گی یا پھر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرکے سب کچھ بھول جائے گی؟؟؟

About the author

Haq Nawaz Malik

Add Comment

Haq Nawaz Malik

Get in Touch